رانچی،15/دسمبر (آئی این ایس انڈیا) ریاستی وزیر صحت بناّ گپتا نے کہا ہے کہ ابھی تک کرونا ویکسین کی تصدیق سائنسدانوں نے نہیں کی ہے۔
ایک نجی اخبار سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اس کے بارے میں مختلف باتیں کی جارہی ہیں یہ تمام چیزیں ابھی ہوا میں ہیں۔وزیر صحت نے کہا کہ جب مرکزی حکومت اسے ٹیک اور کرلیتی، آئی سی ایم آر اسے چیک کرلیتا ہے، نیز رہنماخطوط وضع کرلیا جاتا ہے، تو بتایا جائے گا کہ اسے کتنے درجہ حرارت میں رکھنا ہے،تب ہی اس کا ٹرائل جھارکھنڈ میں شروع ہوگا۔
وزیر صحت نے کہا کہ ابھی تک فیصلہ نہیں کیا گیا ہے کہ اسے کتنا درجہ حرارت میں رکھا جائے۔ کچھ کہتے ہیں کہ اسے مائنس17 تو اور کچھ مائنس 4 ڈگری میں رکھے جانے کی بات کرتے ہیں۔ جب ان سے پوچھاگیاکہ ریاست میں پہلے یہ ویکسین کس کو دی جائے گی؟ کیا انھیں نشان زد کیا گیا؟ تو اس کے جواب میں کہا کہ مرکزی حکومت نے اس کے لئے چار مختلف زمرے تشکیل دیئے ہیں۔ کورونا واریر، پیرا میڈیکل اسٹاف، ہوم گارڈ پولیس اہلکار، جن کی عمر 50 سال سے تجاوز ہو اور شدید بیماریوں میں مبتلا ہیں، انہیں پہلی ویکسین دی جائے گی۔ ان کا ڈیٹا تیار کیا جارہا ہے۔ اس میں تمام ضلع کے ڈی سی اور محکمہ صحت کی ٹیم مصروف ہے۔ جب یہ پوچھاگیاکہ بہار میں یہ کہا گیا ہے کہ وہاں (بہار) میں ویکسین فری میں دیں گے، کیا جھارکھنڈ حکومت کیلئے بھی اس میں کچھ رعایت دے جائے گی؟ تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا یہ پالیسی کا معاملہ ہے۔ اس پر صرف چیف منسٹر ہیمنت سورین ہی بول سکتے ہیں۔ یہ ایک غریب پسماندہ آدی باسی ریاست ہے۔ مرکزی حکومت کو چاہیے کہ یہاں بھی مفت ویکسین دئے جائیں۔
حالیہ انتخابات میں کرونا ویکسین انتخابی مسئلہ بھی بنا ہے،یہ بیان بھی15 لاکھ روپے کی طرح یک سیاسی جملہ ہے۔نئے میڈیکل کالجوں میں داخلے پر پابندی کے متعلق انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت اس کے لئے مکمل طور پر ذمہ دار ہے۔ مرکزی حکومت ریاستی حکومت کے ساتھ باہمی خلش مٹانے کے لئے ریاست کے نوجوانوں کو مصیبت میں مبتلا کیا جارہا ہے۔ بچوں کو بلی کا بکرا بنایا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں مرکزی ہرش وردھن سے بات چیت کے لئے وقت مانگاگیا ہے، لیکن انہوں نے اس سلسلے میں کوئی وقت نہیں دیا ہے۔